مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

ڈاکٹرس، نرس كی جانب سے كرونا وايرس كے مريضوں كی خدمات اور تيمارداری كی قدردانی كرتے ہوۓ معظم لہ كے دفتر كا جواب

بسم الله الرحمن الرحيم

دفتر مرجع عاليقدر آقای سيستانی (حفظہ الله)

السلام عليكم و رحمة الله و بركاتہ
جيسا كہ آپ كو بھی اطلاع ہے ان دنوں افراد كرونا وايرس ميں مبتلاء ہیں اور ڈاکٹرس، نرس، اور دوسرے افراد جو ہاسپيٹلس ميں ہیں بيماروں کی خدمت ميں لگے ہوۓ ہیں اور اپنی جان خطرے ميں ڈال كر يہ خدمت انجام دے رہے ہیں چه بسا خود بھی اس بيمای ميں مبتلاء ہو جا رہے ہيں اود خود كی جان فدا كر دے رہے ہیں،
اس لیے مرجعيت دينی كا نظريہ اس بارے ميں كيا ہے؟ آگاه فرمايں


بسمہ تعالی

بيماروں كا علاج او ان كى ديكھ بھال اور ان كے علاج سے مربوط سارے امور كا انجام دينا ڈاكٹرس،نرس، اور باقی لوگوں كے لیے واجب كفائی ہے۔
ليكن اس سے مربوط جو ذمہ دار افراد ہیں ان پر بھی لازم ہے کہ بيماری سے حفاظت كے لیے تمام اسباب او وسائل كو فراہم كريں، اس حوالے سے كوئی بھی کوتاہی قابل قبول نہیں ہے۔
اس ميں كوئی شك نہیں ہے کہ ان افراد كا كام تمام مشكلات کے ساتھ بہت بڑا اقدام اور ايك عظيم كام ہے جس كی كوئی قيمت نہیں معين كي جا سكتی،
چہ بسا ان كی يہ زحمات باڈروں پر لڑ نے والے اور ملك سے دفاع كرنے سپاہیوں كی طرح ہو۔
يقينا خداوند متعال نے ان زحمات كی دنيا ميں قدر دانی كی ہے اور آخرت ميں اس كا ثواب انہں عطا كرے گا،
بلكہ اميد ہے كہ جس نے بھی اس راه ميں اپنى جان قربان کی ہے قيامت كے دن اسے شہید كا اجر و مرتبہ ملے گا۔
ہم ان کی گران بہا خدمات كی قدر دانی کرتے ہیں اور خدا وند متعال سے دعا كرتے ہیں کہ ان كی حفاظت كرے اور ہر برائی سے محفوظ ركھے کہ بيشك وه دعاؤں كا سننے اور اجابت كرنے والا ہے۔
۲۱ رجب۱۴۴۱ ہجری

العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français